سرافراز

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - سربلند، عالی مرتبہ، معزز۔  کھٹکتی ہے نظر میں خیر خواہی رہ نشینوں کی گوارا ہے زمانے کو سر افرازوں کا دوں ہونا      ( ١٩٥٨ء، تار پیرہن، ١٠٢ ) ٢ - متکبر، مغرور۔  شاعر جو تیرے قد سے نہ تشبیہ دیں اوسے ہوے نہ سرو باغ سرافراز اس قدر      ( ١٧٩٨ء، میرسوز، دیوان، ١١٤ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم 'سر' کے ساتھ فارسی مصدر 'افراختن' سے مشتق صیغۂ امر 'افراز' لگانے سے مرکب 'سرافراز' بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مذکر