سربسجدہ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - سجدے میں جھکا ہوا سر، سجدے میں سر جھکانے والا، سجدے میں سر جھکائے۔  بصد عجز کہتا ہوں میں سربسجدہ جب آتی ہے باد سحر سنسناتی١٩٣٠ء، اردو گلستان، ٧٣

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم 'سر' کے بعد 'ب' بطور حرف جار لگا کر عربی زبان سے ماخوذ اسم 'سجدہ' لگانے سے مرکب 'سربسجدہ' بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت اور گاہے بطور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٢٤ء، کو "بانگِ درا" میں مستعمل ملتا ہے۔