سرخروئی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کامیابی، عزت، آبرو، حرمت۔ "جامعہ کراچی کے شعبہ اردو نے یہ فریضہ انجام دے کر سرخروئی حاصل کی۔"      ( ١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ١٨ اپریل، ١٤ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'سرخرو' کے بعد ہمزہ زائد لگا کر 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٥٤ء سے "دیوان ذوق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کامیابی، عزت، آبرو، حرمت۔ "جامعہ کراچی کے شعبہ اردو نے یہ فریضہ انجام دے کر سرخروئی حاصل کی۔"      ( ١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ١٨ اپریل، ١٤ )

اصل لفظ: سُرْخْرُو
جنس: مؤنث