سردردی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - زحمت، بے جاتکلیف، جھنجھٹ، بکھیڑا۔      "سرحدی علاقہ خالی کرا کے اضافی سردردی کیوں مول لی جائے?"     رجوع کریں:   ( ١٩٧٧ء، میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، ١١٠ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ مرکب 'سردرد' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٧٤٦ء سے "سراپا سخن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - زحمت، بے جاتکلیف، جھنجھٹ، بکھیڑا۔      "سرحدی علاقہ خالی کرا کے اضافی سردردی کیوں مول لی جائے?"     رجوع کریں:   ( ١٩٧٧ء، میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، ١١٠ )

جنس: مؤنث