سرشار

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - کناروں سے چھلکتا ہوا، لبریز، لبالب، بھرا ہوا۔  ساقی نے جو یوں ساغر سرشار دیا دل میں نے ہجوم شوق سے وار دیا      ( ١٩٤٧ء، لالہ و گل، ٩١ ) ٢ - نشے میں چور، مست، بے خود۔  کوئی بھرپور جوانی کے نشے میں سرشار رخ ایام کو آئینہ دکھاتی آئی١٩٨٥ء، خواب در خواب، ١٤٢

اشتقاق

فارسی زبان میں اسماء 'سر' اور 'شار' لگانے سے مرکب 'سرشار' بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٠٧ء کو ولی کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔