سرفروش

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جان کی پروا نہ کرنے والا، جانباز؛ بہادر، دلیر، شجاع۔ "لیکن تحریک آزادی فلسطین کے سرفروش وہ شہید ہیں جو افسانوی پرندے فینکس کی طرح اپنی ہی آگ سے جی اٹھتے ہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، فیضان فیض، ١٠٤ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'سر' کے ساتھ 'فروختن' مصدر سے صیغہ امر 'فروش' بطور لاحقۂ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت نیز اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٣٢ء سے "دیوان رند" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جان کی پروا نہ کرنے والا، جانباز؛ بہادر، دلیر، شجاع۔ "لیکن تحریک آزادی فلسطین کے سرفروش وہ شہید ہیں جو افسانوی پرندے فینکس کی طرح اپنی ہی آگ سے جی اٹھتے ہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، فیضان فیض، ١٠٤ )

جنس: مذکر