سرمد

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - ہمیشہ قائم رہنے والا، جس کو بقا اور پائداری ہو، مستحکم۔  غم دل کو جس نے کیا عیش سرمد وہی کاوش دل کشا چاہتا ہوں      ( ١٩٤٢ء، اسرار، ٢٦٧ ) ٢ - مست، مجذوب (فرہنگ آصفیہ)۔ ١ - قادرِ مطلق، خدائے تعالٰی۔  گیا شبہہ سمجھ میں آیۂ حبل الورید آیا رگ گردن مقام خاص ہے محبوب سرمد کا      ( ١٨٧٢ء، محامدِ خاتم النبیینۖ، ٥ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم فاعل ہے۔ اردو میں بطور صفت نیز اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٦٥٧ء سے "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔