سرور
معنی
١ - دل و دماغ کی شگفتگی یا سکون بخش کیفیت، خوشی، فرحت، انسباط، کیف، سرشاری۔ "قلب میں سرور پیدا ہوتا ہے۔" ( ١٩٣٧ء، سلک الدرر، ٦٢ ) ٢ - نشے کا چڑھاؤ، ہلکا سا نشہ جو پر کیف ہو۔ "اس احساس میں ایسا سرور اور نشہ اور اس قدر طمانیت ہوتی ہے جس کے بعد نہ بھوک ستاتی ہے نہ پیاس کی شدت تڑ پاتی ہے۔" ( ١٩٧٦ء، مرحبا الحاج، ٢٠ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٠٥ء کو "آرائش محفل" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - دل و دماغ کی شگفتگی یا سکون بخش کیفیت، خوشی، فرحت، انسباط، کیف، سرشاری۔ "قلب میں سرور پیدا ہوتا ہے۔" ( ١٩٣٧ء، سلک الدرر، ٦٢ ) ٢ - نشے کا چڑھاؤ، ہلکا سا نشہ جو پر کیف ہو۔ "اس احساس میں ایسا سرور اور نشہ اور اس قدر طمانیت ہوتی ہے جس کے بعد نہ بھوک ستاتی ہے نہ پیاس کی شدت تڑ پاتی ہے۔" ( ١٩٧٦ء، مرحبا الحاج، ٢٠ )