سروری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - سرداری، قیادت، حکومت، بادشاہت، پیشوائی۔ "اسلام کی تعلیم سروری و جہانبانی کی تعلیم ہے۔"      ( ١٩٦٦ء، انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر، ٢٧ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'سرور' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٥٦٤ء سے "دیوانِ حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سرداری، قیادت، حکومت، بادشاہت، پیشوائی۔ "اسلام کی تعلیم سروری و جہانبانی کی تعلیم ہے۔"      ( ١٩٦٦ء، انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر، ٢٧ )

اصل لفظ: سَرْوَر
جنس: مؤنث