سرکانا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - کھسکانا، ایک طرف کرنا۔ "ایک دن پلنگ سرکایا تو ایک پائے تلے سے پتلا برآمد ہوا۔"      ( ١٩٨٧ء، گردش رنگ چمن، ٢٩٥ ) ٢ - چپکے سے غائب کر دینا، چھپا دینا، چرا لینا۔ "بادشاہ نے کروٹ بدلی تو وہ مچھلی سر کے تلے سے آہستہ سرکا لی۔"    ( ١٨٢٤ء، سیر عشرت، ٢٧ ) ٣ - بھگا دینا، غائب رکھنا (منصب سے)۔ "وہ ہمیشہ اس تاک میں رہتے تھے کہ جس پر ولی عہد کی زیادہ نظر عنایت ہو اسے کسی طرح سامنے سے سرکاتے رہیں۔"    ( ١٨٥٤ء ذوق، دویوان، ٧ ) ٤ - چپکے سے دے دینا، دوسرے کے فائدے کے لیے اپنی چیز دے دینا۔ "اور ایک صاحب کو میں سنتا ہوں کہ بتدریج اپنی کتابیں سرکاتے جاتے ہیں۔"      ( ١٩٦٧ء، مقالات مولانا محمد حسین آزاد، ٢٧١ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ اردو مصدر 'سرکنا' کا تعدیہ 'سرکانا' بنا۔ اردو میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٠٢ء سے "باغ و بہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کھسکانا، ایک طرف کرنا۔ "ایک دن پلنگ سرکایا تو ایک پائے تلے سے پتلا برآمد ہوا۔"      ( ١٩٨٧ء، گردش رنگ چمن، ٢٩٥ ) ٢ - چپکے سے غائب کر دینا، چھپا دینا، چرا لینا۔ "بادشاہ نے کروٹ بدلی تو وہ مچھلی سر کے تلے سے آہستہ سرکا لی۔"    ( ١٨٢٤ء، سیر عشرت، ٢٧ ) ٣ - بھگا دینا، غائب رکھنا (منصب سے)۔ "وہ ہمیشہ اس تاک میں رہتے تھے کہ جس پر ولی عہد کی زیادہ نظر عنایت ہو اسے کسی طرح سامنے سے سرکاتے رہیں۔"    ( ١٨٥٤ء ذوق، دویوان، ٧ ) ٤ - چپکے سے دے دینا، دوسرے کے فائدے کے لیے اپنی چیز دے دینا۔ "اور ایک صاحب کو میں سنتا ہوں کہ بتدریج اپنی کتابیں سرکاتے جاتے ہیں۔"      ( ١٩٦٧ء، مقالات مولانا محمد حسین آزاد، ٢٧١ )

اصل لفظ: سَرَکْنا