سرکشی
معنی
١ - نافرمانی، بغاوت۔ "مزاج میں سرکشی اور نک چڑھاپن ہمیشہ سے تھا۔" رجوع کریں: ( ١٩٨٤ء کیمیا گر، ١١ ) ٢ - غرور، گھمنڈ۔ اس قد کے آگے سرو کی ہے سرکشی فضول باعث فقط یہ ہے کہ ذرا بڑھ گیا ہے طول ( ١٨٧٥ء، مونس، مراثی، ١٧٤:١ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ مرکب 'سرکش' کے ساتھ 'ی' بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٦٤٩ء سے "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - نافرمانی، بغاوت۔ "مزاج میں سرکشی اور نک چڑھاپن ہمیشہ سے تھا۔" رجوع کریں: ( ١٩٨٤ء کیمیا گر، ١١ )