سرگردانی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - حیرانی، پریشانی، اِدھر اُدھر پھرنا، تشویش، فکر، مخمصہ۔       یہ سرگردانیاں کب تک طواف دربدر کب تک ترے شوریدہ سر آخر رہیں شوریدہ سر کب تک۔     رجوع کریں:   ( ١٩٤٦ء، مشعل، ٩٦ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ مرکب 'سرگردان' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٦٣٥ء سے "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مؤنث