سزاوار
معنی
١ - مستحق، لائق، اہل، قابل، مستوجب، مناسب۔ ترے کرم کا سزاوار تو نہیں حسرت اب آگے تیری خوشی ہے جو سرفراز کرے ( ١٩٥١ء، حسرت موہانی، کلیات، ٣٠ ) ٢ - زیبا، مناسب، موزوں۔ "ان کا شعر اتنا پختہ ہے کہ ان کو حافظ سندھ کہنا ان کی شان کے سزاوار ہے۔" ( ١٩٨٩ء، جنگ، کراچی، ٢١ / اپریل ) ٣ - موافق، مسعود، مبارک، راس۔ احباب کو تری نگہ لطف سزاوار دشمن کو ترا خنجر خونخوار مبارک ( ١٩١٥ء، جان سخن، ٤ )
اشتقاق
فارسی زبان میں اسم 'سزا' کے ساتھ 'وار' بطور لاحقۂ نسبت و تشبیہ لگانے سے مرکب 'سزاوار' بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - زیبا، مناسب، موزوں۔ "ان کا شعر اتنا پختہ ہے کہ ان کو حافظ سندھ کہنا ان کی شان کے سزاوار ہے۔" ( ١٩٨٩ء، جنگ، کراچی، ٢١ / اپریل )