سستی

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - ارزاں، کم قیمت۔ "یہاں پر چیزیں کس قدر سستی ہیں۔"      ( ١٩٨١ء، ہند یاترا، ٣٣٨ ) ٢ - گھٹیا، غیر معیاری، نقصان دہ۔ "سستی تسکین کے یہ طریقے ذہن انسانی کو ادنٰی ترین سطح پر آسودہ کرتے ہیں۔"      ( ١٩٦٤ء، پاکستانی کلچر، ٦٥ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم صفت 'سستا' کی تانیث 'سستی' اردو میں بطور صفت نیز اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٤٩ء سے "کلیات ظفر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ارزاں، کم قیمت۔ "یہاں پر چیزیں کس قدر سستی ہیں۔"      ( ١٩٨١ء، ہند یاترا، ٣٣٨ ) ٢ - گھٹیا، غیر معیاری، نقصان دہ۔ "سستی تسکین کے یہ طریقے ذہن انسانی کو ادنٰی ترین سطح پر آسودہ کرتے ہیں۔"      ( ١٩٦٤ء، پاکستانی کلچر، ٦٥ )

اصل لفظ: سَسْتا
جنس: مذکر