سسر
معنی
١ - شوہر یا بیوی کا باپ، خسر۔ "معاشرے میں ساس سستر، نند بھاوج، دیور، جیٹھ، دیورانی جٹھانی کے چاؤ چونچلے، ریشہ دوانیاں . موجود ہیں۔" ( ١٩٨٦ء، اردو گیٹ، ٤٥ ) ٢ - گالی تھانہ دار صاحب آپ نہ بولیں، آؤ سسر ادھر ہم سے لڑ۔" ( ١٨٨٠ء، فسانہ آزاد، ٧١٢:٣ )
اشتقاق
سنسکرت زبان کے اصل لفظ 'شواشر' سے ماخوذ 'سسر' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٧٣ء سے "فسانہ معقول" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - شوہر یا بیوی کا باپ، خسر۔ "معاشرے میں ساس سستر، نند بھاوج، دیور، جیٹھ، دیورانی جٹھانی کے چاؤ چونچلے، ریشہ دوانیاں . موجود ہیں۔" ( ١٩٨٦ء، اردو گیٹ، ٤٥ ) ٢ - گالی تھانہ دار صاحب آپ نہ بولیں، آؤ سسر ادھر ہم سے لڑ۔" ( ١٨٨٠ء، فسانہ آزاد، ٧١٢:٣ )