سسکی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ آواز جو تکلیف میں منھ بھینچ کر نکالی جائے، سانس کو روک روک کر رونے کی آواز، ہچکی، سسکاری۔  دلوں کا نوحۂ غم سسکیوں میں ڈھلتا ہے وہ درد ہے کہ کوئی کھل کے رو نہیں سکتا      ( ١٩٨٤ء، لہو پکارتا ہے، ١٩ ) ٢ - جاڑے کے باعث سو سو کی آواز، عورت کا جماع کراتے وقت زیر لب آہ آہ کرنا۔  پیار کرے اور سسکی بھرے پھر سسکی بھر کر پیار کیا جانے کیا اک اک کر کے بھا گئے سب یار      ( ١٩٦٧ء، لاحاصل، ٧٤ ) ٣ - (بانک بنوٹ) بنوٹ کا وار۔ "پوشیدہ نہ رہے کہ جب خالی دیکر داہنے یا بائیں طرف آئے تو کشتی کے پینچ مثل پولیاں یا پٹ لینا، سسکی، باہر لاد، کولا، دھوبی پاٹ اور قلا جنگ وغیرہ ہو سکتے ہیں۔"      ( ١٨٤٦ء، رسالہ بانک بنوٹ، ٤٠ )

اشتقاق

اصلاً پراکرت زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں پراکرت سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٠٣ء کو "رانی کیتکی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - (بانک بنوٹ) بنوٹ کا وار۔ "پوشیدہ نہ رہے کہ جب خالی دیکر داہنے یا بائیں طرف آئے تو کشتی کے پینچ مثل پولیاں یا پٹ لینا، سسکی، باہر لاد، کولا، دھوبی پاٹ اور قلا جنگ وغیرہ ہو سکتے ہیں۔"      ( ١٨٤٦ء، رسالہ بانک بنوٹ، ٤٠ )

جنس: مؤنث