سطح

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - ہر چیز کا بالائی رخ، اوپری رخ، میدان، نیز چھت، فرش۔ "یہ کیمیکل کی سخت سطح پر اثرانداز نہیں ہوتا۔"      ( ١٩٦٩ء، فن ادارت، ٢٦٧ ) ٢ - [ مجازا ]  ظاہری مقام، مرتبہ۔ "اس طرح ہمیں واضح طور پر معلوم ہو جائے گا کہ کن مباحث و موضوعات پر کس سطح کی کتنی کتابیں موجود ہیں۔"      ( ١٩٦٣ء، ادب و لسانیات، ١٠٢ ) ٣ - درجہ، حیثیت۔ "تمغے لگانے کی اجازت صرف تمغۂ پاکستان یا اس کے نیچے کی سطح کے اعزازات کے لیے ہو گی۔"      ( ١٩٨٤ء، دفتری مراسلات، ١٠ ) ٤ - [ ہندسہ ]  جس میں عرض و طول ہو عمق نہو۔ "جو آدمی نقطہ، خط یا سطح وغیرہ مبادی اقلیدس ہی کا قائل نہیں اس کو تم اقلیدس کی کوئی شکل کیسے سمجھا سکتے ہو۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ١٧٤:٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨١٠ء کو میر کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہر چیز کا بالائی رخ، اوپری رخ، میدان، نیز چھت، فرش۔ "یہ کیمیکل کی سخت سطح پر اثرانداز نہیں ہوتا۔"      ( ١٩٦٩ء، فن ادارت، ٢٦٧ ) ٢ - [ مجازا ]  ظاہری مقام، مرتبہ۔ "اس طرح ہمیں واضح طور پر معلوم ہو جائے گا کہ کن مباحث و موضوعات پر کس سطح کی کتنی کتابیں موجود ہیں۔"      ( ١٩٦٣ء، ادب و لسانیات، ١٠٢ ) ٣ - درجہ، حیثیت۔ "تمغے لگانے کی اجازت صرف تمغۂ پاکستان یا اس کے نیچے کی سطح کے اعزازات کے لیے ہو گی۔"      ( ١٩٨٤ء، دفتری مراسلات، ١٠ ) ٤ - [ ہندسہ ]  جس میں عرض و طول ہو عمق نہو۔ "جو آدمی نقطہ، خط یا سطح وغیرہ مبادی اقلیدس ہی کا قائل نہیں اس کو تم اقلیدس کی کوئی شکل کیسے سمجھا سکتے ہو۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ١٧٤:٣ )

اصل لفظ: سطح