سفارشی

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - جس کی سفارش کی جائے۔ "عمل کا چوکیدار خوف ہے، اور نکوئی کا سفارشی امید۔"      ( ١٩٢٤ء، تذکرۃ الاولیا، مرزا جان، ١٥٦ ) ٢ - سفارش کرنے والا۔ "کیا ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے لوگوں کو اپنا سفارشی مقرر کر لیا ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٤٠٣ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'سفارش' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٦٨ء سے "مراۃ العروس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جس کی سفارش کی جائے۔ "عمل کا چوکیدار خوف ہے، اور نکوئی کا سفارشی امید۔"      ( ١٩٢٤ء، تذکرۃ الاولیا، مرزا جان، ١٥٦ ) ٢ - سفارش کرنے والا۔ "کیا ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے لوگوں کو اپنا سفارشی مقرر کر لیا ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٤٠٣ )

اصل لفظ: سِفارِش