سفاکیت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - خونریزی، ظلم و جبر، قتل و غارتگری کا عمل۔ "یہ کہاں کا تعلیمی نظام ہے جو بدترین استحصال دور کی سفاکیت کے حقائق سے اس طرح چشم پوشی کرے، جیسے وہ شجر ممنوعہ ہو۔"      ( ١٩٧١ء، توازن، ٨٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'سفاکی' کے ساتھ 'یت' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٩٧١ء سے "توازن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خونریزی، ظلم و جبر، قتل و غارتگری کا عمل۔ "یہ کہاں کا تعلیمی نظام ہے جو بدترین استحصال دور کی سفاکیت کے حقائق سے اس طرح چشم پوشی کرے، جیسے وہ شجر ممنوعہ ہو۔"      ( ١٩٧١ء، توازن، ٨٧ )

اصل لفظ: سفک
جنس: مؤنث