سلائی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کپڑوں کو سوئی دھاگے سے جوڑنے کا عمل، ٹانکا، سوئی کا کام، درزی کا کام یا پیشہ۔ "والکو کے کپڑے دھول میں اٹے ہوئے تھے . ایک پائینچہ گھٹنے کے اوپر سے پھٹ رہا تھا اور دوسرے کی سلائی ادھڑ گئی تھی۔"      ( ١٩٧٠ء، قافلہ شہیدوں کا (ترجمہ)، ٦٤٤:١ ) ٢ - کپڑے سینے کی اجرت۔ "یوں تو چسٹر کی سلائی آٹھ روپے بھی ہوتی ہے مگر دیکھیئے تو سہی کہ ظالم نے گویا تصویر کھینچ دی ہے۔"      ( ١٩٣٧ء، دنیائے تبسم، ١٩ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اردو مصدر 'سلانا' سے مشتق حاصل مصدر ہے۔ اور بطور اسم معاوضہ بھی مستعمل ہے۔ ١٩١٧ء کو "خطوط حسن نظامی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کپڑوں کو سوئی دھاگے سے جوڑنے کا عمل، ٹانکا، سوئی کا کام، درزی کا کام یا پیشہ۔ "والکو کے کپڑے دھول میں اٹے ہوئے تھے . ایک پائینچہ گھٹنے کے اوپر سے پھٹ رہا تھا اور دوسرے کی سلائی ادھڑ گئی تھی۔"      ( ١٩٧٠ء، قافلہ شہیدوں کا (ترجمہ)، ٦٤٤:١ ) ٢ - کپڑے سینے کی اجرت۔ "یوں تو چسٹر کی سلائی آٹھ روپے بھی ہوتی ہے مگر دیکھیئے تو سہی کہ ظالم نے گویا تصویر کھینچ دی ہے۔"      ( ١٩٣٧ء، دنیائے تبسم، ١٩ )

اصل لفظ: سِلْنا
جنس: مؤنث