سلاست

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - روانی، سادگی، ہمواری، صفائی۔ "صفائی اور سلاست تہذیب و شائستگی اور گھلاوٹ آج عام تحریروں میں دیکھی جاتی ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، مولانا ظفر علی خان بحیثیت صحافی، ٣٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - روانی، سادگی، ہمواری، صفائی۔ "صفائی اور سلاست تہذیب و شائستگی اور گھلاوٹ آج عام تحریروں میں دیکھی جاتی ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، مولانا ظفر علی خان بحیثیت صحافی، ٣٣ )

اصل لفظ: سلس
جنس: مؤنث