سلسلہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - زنجیر، بیٹری۔  باندھ دو سلسلۂ گیسو سے خیر اچھا مجھے وحشت ہی سہی      ( ١٨٧٧ء، انور دہلوی، دیوان، ١٠٢ ) ٢ - قطار، لڑی، یکے بعد دیگرے، آنے والی باہم مماثل چیزوں کا تسلسل۔ "سمندر کے وسط میں دفعتاً پہاڑیوں کا سلسلہ کھل گیا۔"      ( ١٩١٣ء، مضامین ابوالکلام آزاد، ١٧ ) ٣ - نسل، خاندان، شجرۂ نسب۔ "جو دوغلا ہو گا اس کا سلسلہ الگ ہو جائے گا۔"      ( ١٨٨٠ء، آب حیات، ٨ ) ٤ - ترتیب، تنظیم، مربوط سلسلہ۔ "شام کو وہی صبح کا عمل پھر کرنا پڑتا ہے مگر اس کا سلسلہ الٹ جاتا ہے۔"      ( ١٩٤٤ء، آدمی اور میشن، ٥ ) ٦ - تعلق، واسطہ، ربط ضبط۔  ایک چہرہ سفر میں بعض اوقات دور تک سلسلہ بناتا ہے      ( ١٩٨٨ء، آنگن میں سمندر، ٧٧ ) ٧ - پیران طریقت کی بیعت کے بعد یکے بعد دیگرے آنے والے جانشینوں کا تسلسل۔ "اس سلسلہ میں قدم رکھنے کے لیے کونسا دروزاہ کھٹکھٹایا جاتا ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ١١١٤ ) ٨ - لگاتار جاری رہنا، تسلسل۔ "بیسویں صدی کے اوائل میں مذکورہ بالا تنظیموں کے علاوہ انفرادی طور پر بھی اردو تراجم کا سلسلہ جاری رہا۔"      ( ١٩٨٥ء، ترجمہ: روایت اور فن، ١٥ ) ٩ - وسیلہ، ذریعہ۔ "واقعہ یہ ہے کہ ابومصعب کے علاوہ دوسرے سلسلوں سے بھی یہ مروی ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٧٠٤:٣ ) ١٠ - ضمن، ذیل، معاملہ۔ "میں کہتا ہوں کہ یہ کیا ضروری ہے کہ انہوں نے بھی پارٹی انتخاب کے سلسلے میں دی ہو۔"      ( ١٩٥٤ء، پیر نابالغ، ٧٢ ) ١١ - [ ادب ]  حلقۂ ادب، دبستان شعری، مکتبۂ فکر۔ "مشتاقی کے زور میں کہ سلسلۂ مصحفی کا خاصہ ہے دو غزلے سہ غزلے کہتے ہیں۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٢٧٧:٣ ) ١٢ - [ تصوف ]  اعتصام خلائق کو کہتے ہیں یعنی اس سے فیض بالواسطہ مراد ہے خواہ آفاق میں ہو یا انفس میں خواہ انفس مع آلفاق میں۔ (ماخوذ: مصباح التعرف، 147) ١٣ - (رسالے کتاب وغیرہ کی) جلد جو ایک صنف، مضامین یا یکساں تقطیع وغیرہ پر شائع ہو، سلسلۂ مجلدات یا مطبوعات۔ "جو طریقہ آپ بتائیں گے اسی طرح سے یہ سلسلہ منگوالیا جائے گا۔"      ( ١٩١٤ء، حالی، مکاتیب، ١٦٤ ) ١٤ - [ برقیات ]  برقی مورچوں یا لڑیوں کا ایک سلسلہ جو ایک دوسرے سے برقی اتصال رکھتے ہوں۔ "اوہم کی مزاحمت کا ایک معیاری کوائل ایک سلسلے میں جوڑ دیا جاتا ہے۔"      ( ١٩٦٦ء، حرارت، ٢١٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٠٧ء کو "کلیات ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - قطار، لڑی، یکے بعد دیگرے، آنے والی باہم مماثل چیزوں کا تسلسل۔ "سمندر کے وسط میں دفعتاً پہاڑیوں کا سلسلہ کھل گیا۔"      ( ١٩١٣ء، مضامین ابوالکلام آزاد، ١٧ ) ٣ - نسل، خاندان، شجرۂ نسب۔ "جو دوغلا ہو گا اس کا سلسلہ الگ ہو جائے گا۔"      ( ١٨٨٠ء، آب حیات، ٨ ) ٤ - ترتیب، تنظیم، مربوط سلسلہ۔ "شام کو وہی صبح کا عمل پھر کرنا پڑتا ہے مگر اس کا سلسلہ الٹ جاتا ہے۔"      ( ١٩٤٤ء، آدمی اور میشن، ٥ ) ٧ - پیران طریقت کی بیعت کے بعد یکے بعد دیگرے آنے والے جانشینوں کا تسلسل۔ "اس سلسلہ میں قدم رکھنے کے لیے کونسا دروزاہ کھٹکھٹایا جاتا ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ١١١٤ ) ٨ - لگاتار جاری رہنا، تسلسل۔ "بیسویں صدی کے اوائل میں مذکورہ بالا تنظیموں کے علاوہ انفرادی طور پر بھی اردو تراجم کا سلسلہ جاری رہا۔"      ( ١٩٨٥ء، ترجمہ: روایت اور فن، ١٥ ) ٩ - وسیلہ، ذریعہ۔ "واقعہ یہ ہے کہ ابومصعب کے علاوہ دوسرے سلسلوں سے بھی یہ مروی ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٧٠٤:٣ ) ١٠ - ضمن، ذیل، معاملہ۔ "میں کہتا ہوں کہ یہ کیا ضروری ہے کہ انہوں نے بھی پارٹی انتخاب کے سلسلے میں دی ہو۔"      ( ١٩٥٤ء، پیر نابالغ، ٧٢ ) ١١ - [ ادب ]  حلقۂ ادب، دبستان شعری، مکتبۂ فکر۔ "مشتاقی کے زور میں کہ سلسلۂ مصحفی کا خاصہ ہے دو غزلے سہ غزلے کہتے ہیں۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٢٧٧:٣ ) ١٣ - (رسالے کتاب وغیرہ کی) جلد جو ایک صنف، مضامین یا یکساں تقطیع وغیرہ پر شائع ہو، سلسلۂ مجلدات یا مطبوعات۔ "جو طریقہ آپ بتائیں گے اسی طرح سے یہ سلسلہ منگوالیا جائے گا۔"      ( ١٩١٤ء، حالی، مکاتیب، ١٦٤ ) ١٤ - [ برقیات ]  برقی مورچوں یا لڑیوں کا ایک سلسلہ جو ایک دوسرے سے برقی اتصال رکھتے ہوں۔ "اوہم کی مزاحمت کا ایک معیاری کوائل ایک سلسلے میں جوڑ دیا جاتا ہے۔"      ( ١٩٦٦ء، حرارت، ٢١٠ )

اصل لفظ: سلس
جنس: مذکر