سلونا

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - نمکین، نمکین چیز، مزے دار، دلکش۔ "دکان پر لے کر پہنچ گئے، مٹھائی اور سلونا کھلا لائے۔"      ( ١٩٦٢ء، گنجینہ گوہر، ٢٤٢ ) ٢ - گندمی رنگ، ملاحت، گندمی رنگ کا، سانولا، ملیح، محبوبہ یا محبوب۔ "بھانت بھانت کے انسان پائے جاتے ہیں مثلاً کالے، گورے، لال، پیلے، گندمی، سلونے، بانمک، بے نمک۔      ( ١٩٨٤ء، قلمرو، ٢٥٠ ) ٣ - خوشگوار، دلکش، مرغوب، من بھاونا۔ "اس کے ہنسنے قہقہے لگانے کے لیے ہی آج موسم اتنا سلونا ہو رہا تھا ہوائیں گنگنا رہی تھیں۔"      ( ١٩٨٧ء، روز کا قصہ، ٢١٥ ) ٤ - حسین، خوبصورت۔ "ان کے سلونے چہرے پر ایک کرب سا ہو جاتا ہے۔"    ( ١٩٦٥ء، نیم رخ، ١٧٧ )

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں ماخوذ اسم صفت 'سلون' کے ساتھ 'ا' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'سلونا' بنا۔ اردو میں اسم صفت اور گا ہے بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٠٣ء کو "نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - نمکین، نمکین چیز، مزے دار، دلکش۔ "دکان پر لے کر پہنچ گئے، مٹھائی اور سلونا کھلا لائے۔"      ( ١٩٦٢ء، گنجینہ گوہر، ٢٤٢ ) ٢ - گندمی رنگ، ملاحت، گندمی رنگ کا، سانولا، ملیح، محبوبہ یا محبوب۔ "بھانت بھانت کے انسان پائے جاتے ہیں مثلاً کالے، گورے، لال، پیلے، گندمی، سلونے، بانمک، بے نمک۔      ( ١٩٨٤ء، قلمرو، ٢٥٠ ) ٣ - خوشگوار، دلکش، مرغوب، من بھاونا۔ "اس کے ہنسنے قہقہے لگانے کے لیے ہی آج موسم اتنا سلونا ہو رہا تھا ہوائیں گنگنا رہی تھیں۔"      ( ١٩٨٧ء، روز کا قصہ، ٢١٥ ) ٤ - حسین، خوبصورت۔ "ان کے سلونے چہرے پر ایک کرب سا ہو جاتا ہے۔"    ( ١٩٦٥ء، نیم رخ، ١٧٧ )

اصل لفظ: سَلون