سمجھ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - عقل، دانش، فہم، ادراک۔  آپس کی رسم و راہ میں کام آئے کیا سمجھ میری جدا سمجھ ہے تمہاری جدا سمجھ      ( ١٩٣٦ء، شعاع مہر، ١٠٤ ) ٢ - رائے، خیال۔ "سنسکرت ہندوستانی پنڈتوں اور آچاریوں کی سمجھ سے دیوتاؤں کی بولی تھی جس کا کوئی بول غلط نہیں ہو سکتا تھا۔"      ( ١٩٧١ء، اردو کا روپ، ٣٩ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ لفظ 'سمجھنا' کا حاصل مصدر 'سمجھ' ہے۔ اردو میں پراکرت سے ماخوذ ہے اور عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - رائے، خیال۔ "سنسکرت ہندوستانی پنڈتوں اور آچاریوں کی سمجھ سے دیوتاؤں کی بولی تھی جس کا کوئی بول غلط نہیں ہو سکتا تھا۔"      ( ١٩٧١ء، اردو کا روپ، ٣٩ )

جنس: مؤنث