سناٹا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ہوا، آندھی، بارش یا اور کسی چیز کی تیزی سے اڑنے کی وحشت ناک آواز۔ "ہوا اس قدر تیز اور سرد تھی کہ ساری رات اس کے سناٹے نے سونے نہ دیا۔"      ( ١٩١١ء۔ سفر نامۂ مصر و شام و حجاز، حسن نظامی، ٢٨ ) ٢ - خاموشی، ویرانی، ہو کا عالم، خاموش فضا۔ "اور . رات کے سناٹے میں سیٹی کی آواز آتی تھی۔"      ( ١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ٧ اکتوبر، ١١ ) ٣ - حیرت، سکتے کا عالم۔ "مہرخ و بہار و غیرہ سب چپ سناٹے میں ہیں۔"      ( ١٨٨٢ء، طلسم ہوش ربا، ٩٤٢:١ ) ٤ - تیزی، سختی، زور۔ "اس سناٹے سے اسے چنگل آہنی میں دبوچا اور ایسا نوچا کہ اس کی جان سنسنا گئی۔"      ( ١٨٢٤ء، فسانۂ عجائب، ١٦٠ ) ٥ - غصّے کا جوش، ہیجان۔ "جب میں نے سنا کہ حکیم بلایا گیا، ایک سناٹا میرے سر سے اٹھا اور دل میں جاکے بجھا۔"      ( ١٨٩١ء، قصہ حاجی بابا اصفہانی، ٣٠٩ ) ٦ - غشی کی کیفیت۔ "پانچ چھ منٹ تک تو مجھے کاٹو تو خون نہ تھا اور دماغ میں ایک سناٹا چکر کھایا کیا۔"      ( ١٩١١ء، ظہیر دہلوی، داستانِ غدر، ٩٩ )

اشتقاق

"بحوالہ حکایت الصوت" اسم صوت 'سَن' کے ساتھ اردو قاعدے کے تحت 'اٹا' بطور لاحقہ اسمت و کیفیت بڑھانے سے 'سناٹا' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور ١٨٢٣ء کو "فسانہ عجائب" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہوا، آندھی، بارش یا اور کسی چیز کی تیزی سے اڑنے کی وحشت ناک آواز۔ "ہوا اس قدر تیز اور سرد تھی کہ ساری رات اس کے سناٹے نے سونے نہ دیا۔"      ( ١٩١١ء۔ سفر نامۂ مصر و شام و حجاز، حسن نظامی، ٢٨ ) ٢ - خاموشی، ویرانی، ہو کا عالم، خاموش فضا۔ "اور . رات کے سناٹے میں سیٹی کی آواز آتی تھی۔"      ( ١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ٧ اکتوبر، ١١ ) ٣ - حیرت، سکتے کا عالم۔ "مہرخ و بہار و غیرہ سب چپ سناٹے میں ہیں۔"      ( ١٨٨٢ء، طلسم ہوش ربا، ٩٤٢:١ ) ٤ - تیزی، سختی، زور۔ "اس سناٹے سے اسے چنگل آہنی میں دبوچا اور ایسا نوچا کہ اس کی جان سنسنا گئی۔"      ( ١٨٢٤ء، فسانۂ عجائب، ١٦٠ ) ٥ - غصّے کا جوش، ہیجان۔ "جب میں نے سنا کہ حکیم بلایا گیا، ایک سناٹا میرے سر سے اٹھا اور دل میں جاکے بجھا۔"      ( ١٨٩١ء، قصہ حاجی بابا اصفہانی، ٣٠٩ ) ٦ - غشی کی کیفیت۔ "پانچ چھ منٹ تک تو مجھے کاٹو تو خون نہ تھا اور دماغ میں ایک سناٹا چکر کھایا کیا۔"      ( ١٩١١ء، ظہیر دہلوی، داستانِ غدر، ٩٩ )

جنس: مذکر