سنسار

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - دنیا، عالم، جہاں، جگت، کائنات۔ "میں نے . اس ان دیکھی ذات کو آوازیں دیں جو سارے سنسار کی سر جنہار اور مالک ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، صحیفہ، جنوری تا مارچ، ٣٦ ) ٢ - [ ہندو ]  آواگون، تناسخ۔ "اس پوھی کی کرپاسے سنسار یعنی آواگون کے دُکھ دور ہو جاتے ہیں۔"      ( ١٨٥٥ء، بھگت مال، ١٦ )

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوانِ حسن شوقی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دنیا، عالم، جہاں، جگت، کائنات۔ "میں نے . اس ان دیکھی ذات کو آوازیں دیں جو سارے سنسار کی سر جنہار اور مالک ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، صحیفہ، جنوری تا مارچ، ٣٦ ) ٢ - [ ہندو ]  آواگون، تناسخ۔ "اس پوھی کی کرپاسے سنسار یعنی آواگون کے دُکھ دور ہو جاتے ہیں۔"      ( ١٨٥٥ء، بھگت مال، ١٦ )

جنس: مذکر