سنسان

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - غیر آباد جگہ، ویران، اجاڑ۔ "دیہات قصبات میں مئی جون کی دوپہریاں بھی دسمبر جنوری کی آدھی راتوں سے کم سنسان نہیں ہوا کرتیں۔"      ( ١٩٨٦ء، انصاف، ١٠٨ ) ٢ - وہ جگہ جہاں اداسی چھائی ہوئی ہو اور کہیں کوئی بولتا چالتا نہ ہو۔ "جب سے مرحوم حیدر آباد سے گئے ہیں، حیدر آباد جیسا شہر سنسان ہو گیا۔"      ( ١٩١٢ء، چند ہم عصر، ٦٢ ) ٣ - اداس، گم سم۔  یہاں ادھر خاموش یہ سنسان وہ ڈر سے یہ سہمی ہوئی حیران وہ      ( ١٨٢٨ء، مثنوی مہر و مشتری، ٦٥ ) ٤ - خوفناک، بھیانک۔ "کوئی تو اس سنسان ویرانے میں اپنا ہمصغیر پیدا ہو۔"      ( ١٩١٤ء، راج دلاری، ١١٠ ) ٥ - [ کنایۃ ]  منجمند، پُر سکون، خاموش۔  اس وقت کہ دنیا نیند میں ہے سنسان ہے سطح سمندر کی      ( ١٩٢٨ء، سلیم پانی پتی، افکار سلیم، ٩٧ )

اشتقاق

سنسکرت الاصل دو الفاظ 'شونیہ+سن' سے ماخوذ 'سنسان' اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "کلیاتِ میر" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - غیر آباد جگہ، ویران، اجاڑ۔ "دیہات قصبات میں مئی جون کی دوپہریاں بھی دسمبر جنوری کی آدھی راتوں سے کم سنسان نہیں ہوا کرتیں۔"      ( ١٩٨٦ء، انصاف، ١٠٨ ) ٢ - وہ جگہ جہاں اداسی چھائی ہوئی ہو اور کہیں کوئی بولتا چالتا نہ ہو۔ "جب سے مرحوم حیدر آباد سے گئے ہیں، حیدر آباد جیسا شہر سنسان ہو گیا۔"      ( ١٩١٢ء، چند ہم عصر، ٦٢ ) ٤ - خوفناک، بھیانک۔ "کوئی تو اس سنسان ویرانے میں اپنا ہمصغیر پیدا ہو۔"      ( ١٩١٤ء، راج دلاری، ١١٠ )

اصل لفظ: شونیہ+سن