سنورنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - آراستہ ہونا، بننا، سِنگرنا۔  سنورنے سے بھی اچھا ہے بگڑنا حسن والوں کا شکن آتی جبیں پر زینت لوح جبیں ہو کر      ( ١٩٨٣ء، سرمایۂ تغزل، ٦٢ ) ٢ - سدھرنا، راہ راست پر آنا، نیک چلن ہونا۔ "ایسے بچے بگڑتے زیادہ ہیں اور سنورتے کم ہیں۔"      ( ١٩٨٥ء، طوبٰی، ٦٤٣ ) ٣ - درست ہونا، صحیح ہونا۔ "یونہی پکاتے پکاتے ہاتھ سنور جائے گا جو ابھی سے اُن کے پکانے کو نام دھرو گے تو پھر وہ کبھی چولھے پر جاکر قدم بھی نہیں رکھنے کی۔"      ( ١٨٧٤ء، مجالس النساء، ٤١:١ )

اشتقاق

ہندی سے اردو میں دخیل اسم صفت 'سنور' کے ساتھ اردو قاعدے کے تحت علامتِ مصدر 'نا' بڑھانے سے 'سنورنا' حاصل ہوا۔ اردو میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے اور ١٤٣٥ء کو "کدم راؤ پدم راؤ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - سدھرنا، راہ راست پر آنا، نیک چلن ہونا۔ "ایسے بچے بگڑتے زیادہ ہیں اور سنورتے کم ہیں۔"      ( ١٩٨٥ء، طوبٰی، ٦٤٣ ) ٣ - درست ہونا، صحیح ہونا۔ "یونہی پکاتے پکاتے ہاتھ سنور جائے گا جو ابھی سے اُن کے پکانے کو نام دھرو گے تو پھر وہ کبھی چولھے پر جاکر قدم بھی نہیں رکھنے کی۔"      ( ١٨٧٤ء، مجالس النساء، ٤١:١ )

اصل لفظ: سَنْوَر