سنک

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - خبط، جنون، دیوانگی۔ "جو کسی رَیا کاری یا مذہبی سنک کے تحت گالوں کے باڑھے اور گؤشالے بنانے پڑے تھے۔"      ( ١٩٨٦ء، جوالا مُکھ، ٢٣١ ) ٢ - نرم روی، آہستہ خرامی۔  لیکن اس درگاہ سے باہر ہزاروں میل تک بے کفن لاشوں کی بُو تھی اور ہواؤں کی سنک      ( ١٩٤٩ء، نبضِ دوراں، ١٣٩ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اسم مصدر 'سنکنا' سے حالیہ تمام 'سنک' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٩٦ء کو "مثنوی امید وبیم" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خبط، جنون، دیوانگی۔ "جو کسی رَیا کاری یا مذہبی سنک کے تحت گالوں کے باڑھے اور گؤشالے بنانے پڑے تھے۔"      ( ١٩٨٦ء، جوالا مُکھ، ٢٣١ )

جنس: مؤنث