سنکی

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - جس کے مزاج میں مالیخولیا کی کیفیت ہو، فتور عقل کا مریض۔ "ہم منٹو پر فحاشی اور عریانی کا الزام عائد کرنے لگتے ہیں اور اسے سنکی اور باغی قرار دے دیتے ہیں۔"      ( ١٩٨٧ء، کچھ نئے اور پرانے افسانہ نگار، ٨٢ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اسم کیفیت 'سنک' کے ساتھ فارسی قاعدے کے تحت 'ی' بطور لاحقہ نسبت ملنے سے 'سنکی' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور ١٩٨٧ء کو "کچھ نئے اور پرانے افسانہ نگار" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جس کے مزاج میں مالیخولیا کی کیفیت ہو، فتور عقل کا مریض۔ "ہم منٹو پر فحاشی اور عریانی کا الزام عائد کرنے لگتے ہیں اور اسے سنکی اور باغی قرار دے دیتے ہیں۔"      ( ١٩٨٧ء، کچھ نئے اور پرانے افسانہ نگار، ٨٢ )

اصل لفظ: سَنک