سنگار

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - زیب و زینت، آراستگی، سجاوٹ، سنگھار۔  عروس گل کا چمن میں سنگار دیکھیں گے بہار دیکھنے والے بہار دیکھیں گے      ( ١٩٢٩ء، مطلع انوار، ١٤٥ ) ٢ - زیور، لباس وغیرہ، پہننا، کنگھی چوٹی، آرایش کا سامان، آرایش؛ زیبایش۔ "ابوالفضل نے عورتوں اور مردوں کے سنگار اور زیورات کی جو تفصیل لکھی ہے اُس سے اس عہد کی زینت و آرائش کا بھی اندازہ ہو گا۔"      ( ١٩٥٨ء، ہندوستان کے عہد وسطی کی ایک جھلک، ٤٢٢ )

اشتقاق

سنسکرت الاصل لفظ 'شرنگار' سے اردو میں ماخوذ 'سنگار' عربی رسم الخط میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور ١٦١١ء کو "کلیاتِ قلی قطب شاہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - زیور، لباس وغیرہ، پہننا، کنگھی چوٹی، آرایش کا سامان، آرایش؛ زیبایش۔ "ابوالفضل نے عورتوں اور مردوں کے سنگار اور زیورات کی جو تفصیل لکھی ہے اُس سے اس عہد کی زینت و آرائش کا بھی اندازہ ہو گا۔"      ( ١٩٥٨ء، ہندوستان کے عہد وسطی کی ایک جھلک، ٤٢٢ )

اصل لفظ: شرنگار
جنس: مذکر