سنگھ
معنی
١ - ببر شیر۔ "آپ بدن کی شریر آسمان کی جگہ اکاس اور شیر کی بجائے سنگھ استعمال کریں۔" ( ١٩٧٧ء، ہندی اردو تنازع، ١٢٩ ) ٢ - [ ہئیت ] برج اسد؛ سونے چاندی کے بنے ہوئے شیر جو زیبائش کے لیے لگائے جاتے ہیں۔" "نجومیوں نے میں، میکھ، کرک، کنیا، تلا . سنگھ کا بچار کر کے عرض کی۔" ( ١٨٩٠ء، فسانۂ دلفریب، ٩٨ ) ٤ - رتھ کے بیلوں کے ماتھے پر لگانے کا چاندی یا سونے کا ایک زیور۔ "بیلوں کے ماتھے پر سنگھ، کار چوبی پٹہ گلے میں۔" ( ١٩١١ء، قصہ مہر افروز، ٥٨ )
اشتقاق
سنسکرت سے اردو میں ماخوذ ہے اور عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٤١ء کو "دیوانِ شاکر ناجی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ببر شیر۔ "آپ بدن کی شریر آسمان کی جگہ اکاس اور شیر کی بجائے سنگھ استعمال کریں۔" ( ١٩٧٧ء، ہندی اردو تنازع، ١٢٩ ) ٢ - [ ہئیت ] برج اسد؛ سونے چاندی کے بنے ہوئے شیر جو زیبائش کے لیے لگائے جاتے ہیں۔" "نجومیوں نے میں، میکھ، کرک، کنیا، تلا . سنگھ کا بچار کر کے عرض کی۔" ( ١٨٩٠ء، فسانۂ دلفریب، ٩٨ ) ٤ - رتھ کے بیلوں کے ماتھے پر لگانے کا چاندی یا سونے کا ایک زیور۔ "بیلوں کے ماتھے پر سنگھ، کار چوبی پٹہ گلے میں۔" ( ١٩١١ء، قصہ مہر افروز، ٥٨ )