سنیچر

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - [ ہیئت ]  ایک نہایت سست رفتار سیارہ جو آفتاب سے نوّے کڑور میل کے فاصلے پر گردش کرتا ہے؛ زحل ہمیشہ منحوس تصور کیا جاتا ہے۔ "منحوس اسقدر ہے کہ سَنیچر . بھی اس کے قدم چومتا ہے۔"      ( ١٩٢٨ء، سلیم (پانی پتی)، افاداتِ سلیم، ٦٣ ) ٢ - جمعہ کے بعد اور اتوار سے پہلے کا دن، شنبہ، ہفتہ۔ "سنیچر کو ٹیم کا انتخاب ہونے لگا۔"      ( ١٩٨٠ء، پرواز، ١٠٢ ) ٣ - [ کنایۃ ]  نحوست، ادبار، بدنصیبی، بدبختی۔  ڈوبنے جاتے ہیں گنگا میں بنارس والے نوجوانوں کا سنیچر ہے یہ بڑھوا منگل      ( ١٩٠٥ء، محسن کاکوروی، کلیاتِ نعت، ٩٧ )

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں ماخوذ اسم ہے اور عربی رسم الخط میں استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٩٥ء کو "دیپک پتنگ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ ہیئت ]  ایک نہایت سست رفتار سیارہ جو آفتاب سے نوّے کڑور میل کے فاصلے پر گردش کرتا ہے؛ زحل ہمیشہ منحوس تصور کیا جاتا ہے۔ "منحوس اسقدر ہے کہ سَنیچر . بھی اس کے قدم چومتا ہے۔"      ( ١٩٢٨ء، سلیم (پانی پتی)، افاداتِ سلیم، ٦٣ ) ٢ - جمعہ کے بعد اور اتوار سے پہلے کا دن، شنبہ، ہفتہ۔ "سنیچر کو ٹیم کا انتخاب ہونے لگا۔"      ( ١٩٨٠ء، پرواز، ١٠٢ )

جنس: مذکر