سوئمبر

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - [ ہندو ]  اپنی پسند کا خاوند منتخب کرنے کا قاعدہ، ہندو راجاؤں اور عالی خاندان ہندوؤں میں یہ طریقہ رائج تھا کہ جب لڑکی کی شادی کرنا ہوتی تھی تو دن تاریخ مقرر کر کے اعلان کرایا جاتا ہے کہ شادی کے خواہشمند آکر اپنے کرتب اور ہنر دکھائیں اور لڑکی جسے پسند کرے گی اُس سے شادی کی جائے گی یہ رسم اور تقریب سوئمبر کہلاتی تھی۔ "پروانوں کے بچے". شہزادی کا سوئمبر جیتنے کی غرض سے دھڑا دھڑ جلتے رہے۔"      ( ١٩٨٣ء، اُجلے پھل، ٤٤ )

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں ماخوذ ہے اور عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم مذکر استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٠٣ء کو "پریم ساگر" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ ہندو ]  اپنی پسند کا خاوند منتخب کرنے کا قاعدہ، ہندو راجاؤں اور عالی خاندان ہندوؤں میں یہ طریقہ رائج تھا کہ جب لڑکی کی شادی کرنا ہوتی تھی تو دن تاریخ مقرر کر کے اعلان کرایا جاتا ہے کہ شادی کے خواہشمند آکر اپنے کرتب اور ہنر دکھائیں اور لڑکی جسے پسند کرے گی اُس سے شادی کی جائے گی یہ رسم اور تقریب سوئمبر کہلاتی تھی۔ "پروانوں کے بچے". شہزادی کا سوئمبر جیتنے کی غرض سے دھڑا دھڑ جلتے رہے۔"      ( ١٩٨٣ء، اُجلے پھل، ٤٤ )

جنس: مذکر