سوار

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ شخص جو سواری کے جانوروں یا گاڑی وغیرہ پر چڑھا بیٹھا ہو، راکب (پیادہ کا نقیض)، چڈی لینے والا۔  ہے اگر فائق پیادے سے سوار سُست پر غالب اگر ہشیار ہے      ( ١٩٣٧ء، نغمۂ فردوس، ٣٨:٢ ) ٢ - رسالے یا پولیس کا ملازم جو گھوڑے پر سوار ہو کر خدمت انجام دیتا ہے۔  جوہر کی رسم خاص ہو رنواس میں ادا ساکھا صنفِ عدد میں کریں سُورما سوار      ( ١٩٢٦ء، مطلع انوار، ٨٦ )

اشتقاق

فارسی سے اردو میں ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مذکر