سوال
معنی
١ - کسی علمی یا غیر علمی بات کا پوچھنا، استفسار، دریافت (جواب کا نقیض) ذات و صفات و کل مخلوقات، ابتدا و انتہا، باقی و فانی، قدیم و جدید، باہمہ وے ہمہ۔ "حیاتِ جاوید کی اشاعت پر جب میں نے سوال بالا کیا تو کہاں "سید محمود بہت خوفناک آدمی ہیں"۔" ( ١٩٢٥ء، مقالاتِ شروانی، ٤٢٣ ) ٢ - مانگ، طلب، التجا۔ مانگنے کے واسطے بھی شرط ہے حُسنِ طلب ہو سوال اچھا تو سائل کو ملے اچھا جواب ( ١٩٣٢ء، نظیر، کلامِ بے نظیر، ٤٢ ) ٣ - بھیک، گداگری۔ "سوال اور سرقہ کا مرض تکلیف دہ حد تک پایا جاتا، افسوس کہ ترکوں کی عقیدت مندی اس کی اصلاح نہ کر سکی۔" ( ١٩٢٦ء، مسئلہ حجاز، ١١٦ ) ٤ - درخواست، عرضی، اِستغاثہ۔ "یہ سوال گزران کر امیدوار ہوں کہ بموجب تصریح مندرجہ بالا تجویز مقدمے کی فرمائی جاوے۔" ( ١٨٤٨ء، تاریخ نثر اردو، ٣٦٨:١ ) ٥ - شک۔ کیا ہے جس نے کمر میں تیری سوال اے دوست ہوا ہے غیب سے آوازۂ جواب بلند ( ١٨٤٦ء، آتش، کلیات، ٢٣٣ ) ٦ - زیرِ بحث امر؛ قابل اعتراض مسئلہ یا معاملہ، اعتراض۔ "انگریزوں کے لیے ایران کے ساتھ دوستی کا سوال بڑی اہمیت اختیار کر گیا تھا۔" ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٦٥٣:٣ ) ٧ - شرط۔ "سُنتی ہوں انہوں نے اپنی شادی چند سوالوں پر موقوف کر رکھی ہے۔" ( ١٨٩٠ء، فسانۂ دلفریب، ٣٣ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کسی علمی یا غیر علمی بات کا پوچھنا، استفسار، دریافت (جواب کا نقیض) ذات و صفات و کل مخلوقات، ابتدا و انتہا، باقی و فانی، قدیم و جدید، باہمہ وے ہمہ۔ "حیاتِ جاوید کی اشاعت پر جب میں نے سوال بالا کیا تو کہاں "سید محمود بہت خوفناک آدمی ہیں"۔" ( ١٩٢٥ء، مقالاتِ شروانی، ٤٢٣ ) ٣ - بھیک، گداگری۔ "سوال اور سرقہ کا مرض تکلیف دہ حد تک پایا جاتا، افسوس کہ ترکوں کی عقیدت مندی اس کی اصلاح نہ کر سکی۔" ( ١٩٢٦ء، مسئلہ حجاز، ١١٦ ) ٤ - درخواست، عرضی، اِستغاثہ۔ "یہ سوال گزران کر امیدوار ہوں کہ بموجب تصریح مندرجہ بالا تجویز مقدمے کی فرمائی جاوے۔" ( ١٨٤٨ء، تاریخ نثر اردو، ٣٦٨:١ ) ٦ - زیرِ بحث امر؛ قابل اعتراض مسئلہ یا معاملہ، اعتراض۔ "انگریزوں کے لیے ایران کے ساتھ دوستی کا سوال بڑی اہمیت اختیار کر گیا تھا۔" ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٦٥٣:٣ ) ٧ - شرط۔ "سُنتی ہوں انہوں نے اپنی شادی چند سوالوں پر موقوف کر رکھی ہے۔" ( ١٨٩٠ء، فسانۂ دلفریب، ٣٣ )