سوالیہ

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - استفہامیہ، استفسارانہ، جواب طلب۔ "اتنے بہت سے سوالات غالب کے ذہن میں کیوں کر پیدا ہوئے کیا اس لیے کہ وہ سوالیہ موڈ میں پیدا ہوتے تھے۔"      ( ١٩٨٥ء، نقدِ حرف، ١٢ )

اشتقاق

عربی سے مشتق اسم 'سوال' کے ساتھ فارسی قاعدے کے تحت (لاحقۂ نسبت 'ی' بڑھانے سے 'سوالیہ' حاصل ہوا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور ١٩١٤ء کو "اردو قواعد" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - استفہامیہ، استفسارانہ، جواب طلب۔ "اتنے بہت سے سوالات غالب کے ذہن میں کیوں کر پیدا ہوئے کیا اس لیے کہ وہ سوالیہ موڈ میں پیدا ہوتے تھے۔"      ( ١٩٨٥ء، نقدِ حرف، ١٢ )

اصل لفظ: سءل