سوتر
معنی
١ - مقولہ، فیصلہ، رائے؛ نصیحت، پند۔ "اس کے پیروؤں نے اس کی تمام تعلیمات کو بدل ڈالا، اصل سوتروں کے بجائے نئے سوتر بنا لیے۔" ( ١٩٧٨ء، سیرتِ سرورِ عالمۖ، ١٦:٢ ) ٢ - وہ کتاب جس میں نصیحتوں یا مقولوں کا مجموعہ ہو۔ (جامع اللغات)۔ ٣ - ستلی، ڈوری، دھاگوں کا مجموعہ۔ "جنیؤ ایک سُوتر کی پتلی سی ڈوری . ہوتی ہے جو لڑکے کے گلے میں پہنائی جاتی ہے۔" ( ١٩٢٨ء، بابا نانک کا مذہب، ٤١ )
اشتقاق
سنسکرت الاصل لفظ ہے۔ سنسکرت سے اردو میں داخل ہوا اور عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٠٣ء کو "ابراہیم نامہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - مقولہ، فیصلہ، رائے؛ نصیحت، پند۔ "اس کے پیروؤں نے اس کی تمام تعلیمات کو بدل ڈالا، اصل سوتروں کے بجائے نئے سوتر بنا لیے۔" ( ١٩٧٨ء، سیرتِ سرورِ عالمۖ، ١٦:٢ ) ٣ - ستلی، ڈوری، دھاگوں کا مجموعہ۔ "جنیؤ ایک سُوتر کی پتلی سی ڈوری . ہوتی ہے جو لڑکے کے گلے میں پہنائی جاتی ہے۔" ( ١٩٢٨ء، بابا نانک کا مذہب، ٤١ )