سوتی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - سوت کے تاگے کا چھوٹا سا ٹکڑا جو بچے شرط بد کر مُنہ میں رکھتے ہیں اور جب کوئی شرط والا بچہ کہتا ہے "سوتا سوتی آوے" تو وہ فوراً تاگا زبان پر رکھ دکھا دیتے ہیں اور جو نہیں دکھا پاتا وہ ہار جاتا ہے۔ (فرہنگِ آصفیہ)۔ ١ - سوت کا، سوت کے دھاگے کا بنا ہوا۔ "وہ نہ تو کسی تصویری یا تحریری زبان سے واقف تھے، نہ بستیاں بنا کر رہنے کے عادی تھے اور نہ سوتی یا اونی لباس سے آشنا تھے۔"      ( ١٩٨٥ء، پنجاب کا مقدمہ، ٤٢ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ اسم 'سوت' کے ساتھ فارسی قاعدے کے تحت 'ی' بطور لاحقۂ نسبت بڑھانے سے 'سوتی' بنا۔ اردو میں بطور صفت نیز بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٨٤ء کو "صیدگاہ شوکتی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سوت کے تاگے کا چھوٹا سا ٹکڑا جو بچے شرط بد کر مُنہ میں رکھتے ہیں اور جب کوئی شرط والا بچہ کہتا ہے "سوتا سوتی آوے" تو وہ فوراً تاگا زبان پر رکھ دکھا دیتے ہیں اور جو نہیں دکھا پاتا وہ ہار جاتا ہے۔ (فرہنگِ آصفیہ)۔ ١ - سوت کا، سوت کے دھاگے کا بنا ہوا۔ "وہ نہ تو کسی تصویری یا تحریری زبان سے واقف تھے، نہ بستیاں بنا کر رہنے کے عادی تھے اور نہ سوتی یا اونی لباس سے آشنا تھے۔"      ( ١٩٨٥ء، پنجاب کا مقدمہ، ٤٢ )

اصل لفظ: سُوت
جنس: مذکر