سوختہ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جلا ہوا۔ "دیکھا ایک فرشتہ پروبال سوختہ پڑا ہوا ہے۔"      ( ١٨٧٣ء، مطلع العجائب (ترجمہ)، ١٥ ) ٢ - غم و اندوہ سے پژمردہ، افسردہ، مغموم؛ عاشق۔  گِریاں ہے اگر شمع تو سر دھنتا ہے پروانہ معلوم ہوا سوختہ پروانہ ہے اس کا    ( ١٨٤٦ء، آتش، کلیات، ٢ ) ٣ - غم انگیز، جس میں سوزو گداز ہو۔ "اکثر دیوان اور اشعار سوختہ و برشتہ درد آمیز مطالع میں رکھنے لگا۔"    ( ١٧٩٢ء، عجائب القصص، شاہ عالم، ٧٤ ) ١ - وہ ایندھن جو کوئلہ بننے سے پہلے بجھ گیا ہو۔ "کوئی دست پناہ لے کر دوڑی کسی نے جلتا ہوا سوختہ اٹھا لیا۔"      ( ١٩٠٢ء، طلسمِ نوخیز جمشیدی، ٤٠٥:٣ ) ٢ - جلی ہوئی اشیا کی راکھ، کوئلہ۔ "مقناطیسی علیحدگی کے بعد کچدھات کو سوختہ (Roasted) کیا گیا۔"    ( ١٩٧٣ء، فولاد سازی، ٣٤ ) ٣ - سیاہی چٹ، سیاہی چوس، جاذب، وہ موٹا کاغذ جو روشنائی کو جذب کرلیتا ہے۔ "رنگ ہلکا کرنے کلیے جاذب (سوختہ) کا ٹکڑا بھی کارآمد ہوتا ہے۔"    ( ١٩٦٢ء، ہماری مصوری (مقدمہ)، ٢٧ ) ٦ - کبوتر کی ایک قسم نیز اس کا رنگ۔ "اور محرقی اِسے سوختہ بھی کہتے ہیں۔"    ( ١٨٩١ء رسالہ کبوتر بازی، ٦ ) ٧ - جلا کر خاکستر کی ہوئی دوا جس سے کشتہ بھی مراد ہے (کلید عطاری، 110)۔

اشتقاق

سوختن  نیزبطوراسم  سوخْتَہ

مثالیں

١ - جلا ہوا۔ "دیکھا ایک فرشتہ پروبال سوختہ پڑا ہوا ہے۔"      ( ١٨٧٣ء، مطلع العجائب (ترجمہ)، ١٥ ) ٣ - غم انگیز، جس میں سوزو گداز ہو۔ "اکثر دیوان اور اشعار سوختہ و برشتہ درد آمیز مطالع میں رکھنے لگا۔"    ( ١٧٩٢ء، عجائب القصص، شاہ عالم، ٧٤ ) ١ - وہ ایندھن جو کوئلہ بننے سے پہلے بجھ گیا ہو۔ "کوئی دست پناہ لے کر دوڑی کسی نے جلتا ہوا سوختہ اٹھا لیا۔"      ( ١٩٠٢ء، طلسمِ نوخیز جمشیدی، ٤٠٥:٣ ) ٢ - جلی ہوئی اشیا کی راکھ، کوئلہ۔ "مقناطیسی علیحدگی کے بعد کچدھات کو سوختہ (Roasted) کیا گیا۔"    ( ١٩٧٣ء، فولاد سازی، ٣٤ ) ٣ - سیاہی چٹ، سیاہی چوس، جاذب، وہ موٹا کاغذ جو روشنائی کو جذب کرلیتا ہے۔ "رنگ ہلکا کرنے کلیے جاذب (سوختہ) کا ٹکڑا بھی کارآمد ہوتا ہے۔"    ( ١٩٦٢ء، ہماری مصوری (مقدمہ)، ٢٧ ) ٦ - کبوتر کی ایک قسم نیز اس کا رنگ۔ "اور محرقی اِسے سوختہ بھی کہتے ہیں۔"    ( ١٨٩١ء رسالہ کبوتر بازی، ٦ )

اصل لفظ: سوختن