سودائی

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - مراقی، خبطی، سِڑی، وسواسی، جنونی، دیوانہ، پاگل۔  شہر کا زِنداں بھی ہے اس کے لیے دشت میں بھٹکے گا سودائی کہاں      ( ١٩٨٤ء، چاند پر بادل، ٧٩ ) ١ - مخبوط الحواس، مجنوں، بیوقوف۔  سودائی ہوئے دیکھ کے پھر ہوش نہ آیا زلفوں کا الجھنا بھی اک فسانہ ہے اس کا      ( ١٨٦١ء، کلیاتِ اختر، ١١١ ) ٢ - عاشق، فریفتہ۔  وحشتوں کا کبھی شیدائی نہیں تھا اتنا جیسے اب ہوں ترا سودائی نہیں تھا اتنا      ( ١٩٨٥ء، خواب در خواب، ٤٣ )

اشتقاق

فارسی سے اردو میں دخیل اسم خاص 'سودا' کے ساتھ 'ئی' بطور لاحقہ نسبت بڑھانے سے 'سودائی' حاصل ہوا۔ اردو میں بطور صفت نیز بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٩٢ء کو "عجائب القصص" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: سودا
جنس: مذکر