سوسائٹی

قسم کلام: اسم جمع

معنی

١ - انجمن، جماعت، مجلس، سبھا۔ "مشکل سے کوئی مشہور و معروف مولوی یا فاضلِ اسلام ایسا ہو گا جو الوانیہ سوسائٹی کا ممبر نہ ہو۔"      ( ١٩٢٨ء، حیرت دہلوی، حیات طیبہ، ١٢٣ ) ٢ - صحبت، سنگت، مجلس۔  سوسائٹی نہیں ملتی کہ جس سے دل بہلے جو کوئی مونس و ہمدم ہے اب تو آہ فقط    ( ١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ٣٥:١ ) ٣ - ایک خاص زاویۂ نظر یا نقطۂ نظر رکھنے والے مہذب لوگ۔ "یہ انگریزی سوسائٹی میں جانے آنے کے قابل نہیں۔"    ( ١٩٢٤ء، انشائے بشیر، ٢٨١ ) ٤ - معاشرہ، سماج۔ "ایسے منصوبے سوسائٹی کے بہبود سے تعلق رکھتے ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، جدید عالمی معاشی جغرافیہ، ٢٨ )

اشتقاق

انگریزی سے اصل مفہوم کے ساتھ اردو میں داخل ہوا اور عربی رسم الخط میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٨٨ء کو "ابن الوقت" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - انجمن، جماعت، مجلس، سبھا۔ "مشکل سے کوئی مشہور و معروف مولوی یا فاضلِ اسلام ایسا ہو گا جو الوانیہ سوسائٹی کا ممبر نہ ہو۔"      ( ١٩٢٨ء، حیرت دہلوی، حیات طیبہ، ١٢٣ ) ٣ - ایک خاص زاویۂ نظر یا نقطۂ نظر رکھنے والے مہذب لوگ۔ "یہ انگریزی سوسائٹی میں جانے آنے کے قابل نہیں۔"    ( ١٩٢٤ء، انشائے بشیر، ٢٨١ ) ٤ - معاشرہ، سماج۔ "ایسے منصوبے سوسائٹی کے بہبود سے تعلق رکھتے ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، جدید عالمی معاشی جغرافیہ، ٢٨ )

اصل لفظ: Society
جنس: مؤنث