سوقی

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - بازاری، عامیانہ، مبتذل، پست درجے کا۔ "کبھی صوفی اور کبھی سوقی، کبھی داڑھی مونچیں رکھ لیں اور ساری ساری رات عبادت میں گذار دیں۔"      ( ١٩٨٤ء، کیا قافلہ جاتا ہے، ٢٠٧ )

اشتقاق

عربی سے اردو میں دخیل اسم 'سوق' کے ساتھ فارسی قاعدے کے تحت 'ی' بطور لاحقہ نسبت بڑھانے سے 'سوقی' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور ١٧٩٥ء کو "دیوان قائم" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بازاری، عامیانہ، مبتذل، پست درجے کا۔ "کبھی صوفی اور کبھی سوقی، کبھی داڑھی مونچیں رکھ لیں اور ساری ساری رات عبادت میں گذار دیں۔"      ( ١٩٨٤ء، کیا قافلہ جاتا ہے، ٢٠٧ )

اصل لفظ: سُوق