سوموار

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - اتوار کے بعد اور منگل سے پہلے کا دن، پیر، دوشنبہ۔ "سینہ پھُلا کر فخر سے کہا پچھلے سوموار ہی کی تو بات ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، جانگلوس، ٣٠٣ )

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں داخل ہوا اور عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اتوار کے بعد اور منگل سے پہلے کا دن، پیر، دوشنبہ۔ "سینہ پھُلا کر فخر سے کہا پچھلے سوموار ہی کی تو بات ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، جانگلوس، ٣٠٣ )

جنس: مذکر