سپاٹ
معنی
١ - مسطح، برابر، ہموار۔ "مخملیں پردے کی اوٹ سے جھانکا سپاٹ چٹیل میدان میں سڑک پر سے گزرتی تینوں گھوڑا گاڑیوں کے طویل متحرک سائے۔" ( ١٩٨٧ء، گردش رنگ چمن، ١٢٠ ) ٢ - جس پر نقش و نگار یا بیل بوٹے وغیرہ نہ ہوں، صاف، سادہ۔ "ایک قصاب کی دوکان پر جا کر دو سپاٹ پیسے کہ جن میں سکے کی علامت کا کہیں نام تک نہ تھا اس کے روبرو رکھ دیئے۔" ( ١٨٠١ء، داستان امیر حمزہ، اشک، ١٤٧ ) ٤ - خوش آیند کیفیات یا تاثرات و جذبات سے یکسر خالی، بے کیف، بے رنگ، بے لطف نیز ہر طرح کی کیفیت یا خاصیت سے عاری۔ "بیانیہ کہانی بھی قدیم کہانی کی طرح سپاٹ نہیں بلکہ اس میں معنوی تہیں موجود ہیں۔" ( ١٩٨٧ء، کچھ نئے اور پرانے افسانہ نگار، ١٥٣ ) ٦ - سیدھا سادہ، معصوم، بے ضرر۔ "میں ہمیشہ سے معمولی قسم کا سیدھا سادھا کورا اور سپاٹ مسلمان ہوں۔" ( ١٩٢٣ء، روزنامچۂ حسن نظامی، ٢٣٠ ) ٧ - بے حس، کٹھور۔ "کیا ہمارے دل ایسے سپاٹ ہو جاتے کہ ہم اپنے لڑکوں کی مسلمانیوں میں سینکڑوں روپے اٹھائیں اور مسلمان ہوئے ہوائے یتیم بچے ناداری اور بے وارثی کے سبب غیر مذہب والوں کے ہاتھ پڑ جائیں۔" ( ١٩١٧ء، مضامین قاری، ٢٥ )
اشتقاق
اصلاً سنسکرت زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ اردو میں سنسکرت سے ماخوذ ہے اصل معنی اور اصل حالت میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٧٣ء کو "بنات النعش" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - مسطح، برابر، ہموار۔ "مخملیں پردے کی اوٹ سے جھانکا سپاٹ چٹیل میدان میں سڑک پر سے گزرتی تینوں گھوڑا گاڑیوں کے طویل متحرک سائے۔" ( ١٩٨٧ء، گردش رنگ چمن، ١٢٠ ) ٢ - جس پر نقش و نگار یا بیل بوٹے وغیرہ نہ ہوں، صاف، سادہ۔ "ایک قصاب کی دوکان پر جا کر دو سپاٹ پیسے کہ جن میں سکے کی علامت کا کہیں نام تک نہ تھا اس کے روبرو رکھ دیئے۔" ( ١٨٠١ء، داستان امیر حمزہ، اشک، ١٤٧ ) ٤ - خوش آیند کیفیات یا تاثرات و جذبات سے یکسر خالی، بے کیف، بے رنگ، بے لطف نیز ہر طرح کی کیفیت یا خاصیت سے عاری۔ "بیانیہ کہانی بھی قدیم کہانی کی طرح سپاٹ نہیں بلکہ اس میں معنوی تہیں موجود ہیں۔" ( ١٩٨٧ء، کچھ نئے اور پرانے افسانہ نگار، ١٥٣ ) ٦ - سیدھا سادہ، معصوم، بے ضرر۔ "میں ہمیشہ سے معمولی قسم کا سیدھا سادھا کورا اور سپاٹ مسلمان ہوں۔" ( ١٩٢٣ء، روزنامچۂ حسن نظامی، ٢٣٠ ) ٧ - بے حس، کٹھور۔ "کیا ہمارے دل ایسے سپاٹ ہو جاتے کہ ہم اپنے لڑکوں کی مسلمانیوں میں سینکڑوں روپے اٹھائیں اور مسلمان ہوئے ہوائے یتیم بچے ناداری اور بے وارثی کے سبب غیر مذہب والوں کے ہاتھ پڑ جائیں۔" ( ١٩١٧ء، مضامین قاری، ٢٥ )