سپاٹا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - دوڑ، طرارہ، فراٹا۔ "قلم کے ایک سپاٹے میں لکھتے چلے گیے یہاں تک کہ اس کو تمام کر کے دم لیا۔"      ( ١٩٣٩ء، مطالعہ حافظہ، ١١٥ ) ٢ - تیزی۔ "کوئی سپاٹے سے بیٹکھیاں نکال رہا ہے۔"      ( ١٩٦٧ء، ساقی، کراچی، جولائی، ٥٢ ) ٣ - ضرب، مار، زد۔ "میں نے پنڈلی پر چڑھتے ہوئے لال بیگ کو سپاٹا مار کر جھاڑ دیا۔"      ( ١٩٦٦ء، دوہاتھ، ٨٦١ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ اسم 'جھپاٹا' کا ایک املا 'سپاٹا' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٧٦٥ء سے "دکھنی انوار سہیلی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دوڑ، طرارہ، فراٹا۔ "قلم کے ایک سپاٹے میں لکھتے چلے گیے یہاں تک کہ اس کو تمام کر کے دم لیا۔"      ( ١٩٣٩ء، مطالعہ حافظہ، ١١٥ ) ٢ - تیزی۔ "کوئی سپاٹے سے بیٹکھیاں نکال رہا ہے۔"      ( ١٩٦٧ء، ساقی، کراچی، جولائی، ٥٢ ) ٣ - ضرب، مار، زد۔ "میں نے پنڈلی پر چڑھتے ہوئے لال بیگ کو سپاٹا مار کر جھاڑ دیا۔"      ( ١٩٦٦ء، دوہاتھ، ٨٦١ )

اصل لفظ: جَھپاٹا
جنس: مذکر