سپنا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - خواب، رویا۔ "سات سال کی ازدواجی زندگی اسے ایک سپنا محسوس ہوتی تھی۔"    ( ١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ١٠٧ ) ٢ - خیال، تصور۔ "رات کے خواب، نظر کے فریب (اوہام) بیداری کے سپنے (خیالی پلاؤ) . ہمارے تجربے میں ہر چیز صرف خارج سے نہیں آتی۔"    ( ١٩٥٦ء، تعارف فلسفۂ جدید، ١٣ )

اشتقاق

پراکرت زبان کے لفظ 'سپن' کے ساتھ 'الف' زائد بطور 'تذکیر' لگانے سے 'سپنا' بنا۔ سنسکرت میں 'سوپن' مستعمل ہے۔ اردو میں پراکرت سے ماخوذ ہے عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٤ء کو حسن شوقی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خواب، رویا۔ "سات سال کی ازدواجی زندگی اسے ایک سپنا محسوس ہوتی تھی۔"    ( ١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ١٠٧ ) ٢ - خیال، تصور۔ "رات کے خواب، نظر کے فریب (اوہام) بیداری کے سپنے (خیالی پلاؤ) . ہمارے تجربے میں ہر چیز صرف خارج سے نہیں آتی۔"    ( ١٩٥٦ء، تعارف فلسفۂ جدید، ١٣ )

اصل لفظ: سپن
جنس: مذکر