سہل

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - آسان، مشکل کا نقیص۔ "میں تو اتنی فارسی نہیں جانتا کہ مشکل الفاظ لکھ سکوں. اگر کیفیات کا احساس ہو تو مشکل زبان بھی سہل ہو جاتی ہے۔"      ( ١٩٣٠ء، اقبال نامہ، ٣٧١:٢ ) ٢ - سرسری، غیر اہم، معمولی، حقیر۔  سہل کہتا ہوں ممتغ حسرت نغزگوئی مرا شعار نہیں      ( ١٨٥١ء، حسرت، کلیات، ٢٧١ ) ٣ - نرم زمین، پولی زمین، نرم اور ہموار زمین۔ "آبادی ویران، ویرانہ آباد، بربحر، سہل جہل، جہل سہل ہو جاتا ہے۔"      ( ١٨٨٣ء، طلائع المقدور، ٤ ) ١ - بآسانی، سہولت سے، بلادقت۔ "شہسواری اور تیر اندازی تو بیشک سہل آجاتی ہوگی، لیکن کیا اچھی بات ہوتی اگر ہمیں معلوم ہو جاتا کہ راست بازی کن کن طریقوں سے سکھاتے ہیں۔"      ( ١٨٨٠ء، نیرنگِ خیال، ٣٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب نیز بطور متعلق فعل سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور صفت نیز بطور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آسان، مشکل کا نقیص۔ "میں تو اتنی فارسی نہیں جانتا کہ مشکل الفاظ لکھ سکوں. اگر کیفیات کا احساس ہو تو مشکل زبان بھی سہل ہو جاتی ہے۔"      ( ١٩٣٠ء، اقبال نامہ، ٣٧١:٢ ) ٣ - نرم زمین، پولی زمین، نرم اور ہموار زمین۔ "آبادی ویران، ویرانہ آباد، بربحر، سہل جہل، جہل سہل ہو جاتا ہے۔"      ( ١٨٨٣ء، طلائع المقدور، ٤ ) ١ - بآسانی، سہولت سے، بلادقت۔ "شہسواری اور تیر اندازی تو بیشک سہل آجاتی ہوگی، لیکن کیا اچھی بات ہوتی اگر ہمیں معلوم ہو جاتا کہ راست بازی کن کن طریقوں سے سکھاتے ہیں۔"      ( ١٨٨٠ء، نیرنگِ خیال، ٣٤ )

اصل لفظ: سہل