سہنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - برداشت کرنا، اٹھانا، جھیلنا (دُکھ، تکلیف وغیرہ)۔  میں کہ ہر چوٹ سہ گیا چُپ چاپ اپنے سینے پر رکھ لیے پتھر      ( ١٩٨١ء، تشنگی کا سفر، ١١١ ) ٢ - گوارا کرنا۔ "میں یہ نہیں سہ سکتی کہ لوگ میری طرف انگلیاں اٹھائیں کہ وہ قاتل کی بیوی جاتی ہے۔"      ( ١٩١٤ء، راج دلاری، ١٥٣ ) ٣ - بھگتنا، بھوگنا۔ "جو کروں گی وہ بھگتیں گی جو کہوں وہ سہیں گی۔"      ( ١٩١٠ء، لڑکیوں کی انشا، ٤٥ ) ٤ - ماننا، تسلیم کرنا۔  ملا غیر سے وہ میں چپ رہ گیا نہ سہنی تھی جو بات وہ سَہ گیا      ( ١٨٧٨ء، سخن بیمثال، ٢ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے اردو قاعدے کے تحت ماخوذ مصدر ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٦٥ء کو "جواہر اسرار اللہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - گوارا کرنا۔ "میں یہ نہیں سہ سکتی کہ لوگ میری طرف انگلیاں اٹھائیں کہ وہ قاتل کی بیوی جاتی ہے۔"      ( ١٩١٤ء، راج دلاری، ١٥٣ ) ٣ - بھگتنا، بھوگنا۔ "جو کروں گی وہ بھگتیں گی جو کہوں وہ سہیں گی۔"      ( ١٩١٠ء، لڑکیوں کی انشا، ٤٥ )