سیدھا
معنی
١ - راست، جس میں کجی نہ ہو (ٹیڑھے کی نقیض)۔ "پٹی لگائی ہوئی ہے تو ڈورا دے اس کو کوکا، کوک چکے تو پہلے یہ دیکھا کہ سیدھا ہے، پھر بخیہ کیا۔" ( ١٩٠٨ء، صبحِ زندگی، ١٦٢ ) ٢ - دایاں (بایاں یا الٹا کی ضد)۔ "اندر داخل ہوتے ہی اس کی نظر سیدھے ہاتھ والے کھلے ہوئے دروازے پر پڑی۔" ( ١٩٧٠ء، قافلہ شہیدوں کا (ترجمہ)۔ ) ٣ - سامنے کا رُخ، بالائی سطح، اوپری حصہ، بیرونی رخ، ابرا (الٹا کا نقیض) "پھر کرتہ سیدھا کیا ایک انگل سے کم گھیر موڑا۔" ( ١٩٠٨ء، صبحِ زندگی، ١٦٢ ) ٤ - بھولا بھالا، نیک، شریف، نیک اطوار، مسکین۔ "تمہارا لڑکا لڑکیوں سے زیادہ سیدھا، تم اگر اس کو دولت کے جال میں پھنساتی ہو تو بسم اللہ۔" ( ١٩٢٤، وداع خاتون،٥ ) ٥ - [ عورات ] موافق، مہربان، حسب مرضی "اب تو اس کا خاوند بیوی سے سیدھا ہے۔" ( ١٨٨٩ء، فرہنگِ آصفیہ، ١٤٦:٣ ) ٦ - ٹھیک، آسان، ابہام سے پاک، واضح۔ "اگر ہدایتوں پر پوری طرح عمل کیا جائےغ تو رفتہ رفتہ سب کام سہل اور سیدھے ہو جائیں گے۔" ( ١٩٤٠ء، معدنی دباغت، ١٦٥ ) ٧ - سچا، مخلق، کھرا۔ "کریمن نے عرض کی کہ حضور وہ اپنی ذات کے واسطے ٹیڑھے سہی لیکن معاملات کے ایسے سیدھے کہ کسی بات میں عذر نہیں۔" ( ١٩٢٤ء، خلیل خان فاختہ، ١٩:١ ) ٨ - غیرمتحرک، جس میں ہلچل نہ ہو، ہموار، سپاٹ "سمندر ایسا سیدھا، چُپ چاپ تھا کہ ذرا بھی اس میں تمون نہ تھا۔" ( ١٨٨٠ء، رسالہ تہذیب الاخلاق، ٢١١ ) ٩ - براہ راست، بغیر رُکے؛ بغیر رکاوٹ کے، بلاجھجک۔ "وہ سیدھے حضرت علی کے پاس پہنچے۔" ( ١٩٤٠ء، فاطمہ کا لال، ٣٣ ) ١٠ - عمودی، استادہ، عمودًا۔ "جیسے ہی خطرہ محسوس ہوتا ہے سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے۔" ( ١٩٨٤ء، اساسی حیوانیات، ٢٢٩ )
اشتقاق
سنسکرت الاصل لفظ 'سدھ' سے اُردو میں ماخوذ اسم 'سیدھ' کے ساتھ 'ا' بطور لاحقہ نسبت و تمیز بڑھانے سے 'سیدھا" بنا۔ اردو میں بطور صفت نیز متلق فعل استعمال ہوتا ہے اور ١٦٠٣ء کو 'شرح/تمہیدات ہمدانی (ترجمہ)" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - راست، جس میں کجی نہ ہو (ٹیڑھے کی نقیض)۔ "پٹی لگائی ہوئی ہے تو ڈورا دے اس کو کوکا، کوک چکے تو پہلے یہ دیکھا کہ سیدھا ہے، پھر بخیہ کیا۔" ( ١٩٠٨ء، صبحِ زندگی، ١٦٢ ) ٢ - دایاں (بایاں یا الٹا کی ضد)۔ "اندر داخل ہوتے ہی اس کی نظر سیدھے ہاتھ والے کھلے ہوئے دروازے پر پڑی۔" ( ١٩٧٠ء، قافلہ شہیدوں کا (ترجمہ)۔ ) ٣ - سامنے کا رُخ، بالائی سطح، اوپری حصہ، بیرونی رخ، ابرا (الٹا کا نقیض) "پھر کرتہ سیدھا کیا ایک انگل سے کم گھیر موڑا۔" ( ١٩٠٨ء، صبحِ زندگی، ١٦٢ ) ٤ - بھولا بھالا، نیک، شریف، نیک اطوار، مسکین۔ "تمہارا لڑکا لڑکیوں سے زیادہ سیدھا، تم اگر اس کو دولت کے جال میں پھنساتی ہو تو بسم اللہ۔" ( ١٩٢٤، وداع خاتون،٥ ) ٥ - [ عورات ] موافق، مہربان، حسب مرضی "اب تو اس کا خاوند بیوی سے سیدھا ہے۔" ( ١٨٨٩ء، فرہنگِ آصفیہ، ١٤٦:٣ ) ٦ - ٹھیک، آسان، ابہام سے پاک، واضح۔ "اگر ہدایتوں پر پوری طرح عمل کیا جائےغ تو رفتہ رفتہ سب کام سہل اور سیدھے ہو جائیں گے۔" ( ١٩٤٠ء، معدنی دباغت، ١٦٥ ) ٧ - سچا، مخلق، کھرا۔ "کریمن نے عرض کی کہ حضور وہ اپنی ذات کے واسطے ٹیڑھے سہی لیکن معاملات کے ایسے سیدھے کہ کسی بات میں عذر نہیں۔" ( ١٩٢٤ء، خلیل خان فاختہ، ١٩:١ ) ٨ - غیرمتحرک، جس میں ہلچل نہ ہو، ہموار، سپاٹ "سمندر ایسا سیدھا، چُپ چاپ تھا کہ ذرا بھی اس میں تمون نہ تھا۔" ( ١٨٨٠ء، رسالہ تہذیب الاخلاق، ٢١١ ) ٩ - براہ راست، بغیر رُکے؛ بغیر رکاوٹ کے، بلاجھجک۔ "وہ سیدھے حضرت علی کے پاس پہنچے۔" ( ١٩٤٠ء، فاطمہ کا لال، ٣٣ ) ١٠ - عمودی، استادہ، عمودًا۔ "جیسے ہی خطرہ محسوس ہوتا ہے سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے۔" ( ١٩٨٤ء، اساسی حیوانیات، ٢٢٩ )